غسل کا بیان | ghusal ka bayan | learn islamic prayer
جنابت ۲ غسل حیض ۳ غسل
استحاضہ ۴ غسل نفاس ۵ غسل
میت ۶ غسل مس میت ۷ غسل
نذر وعہدوغیرہ
ارتماسی
کے غوطہ لگائے۔۔۔۔نیت یہ ہے: غسل کرتا ہوں یا کرتی ہوں رفع ہونے حدث کے اور مباح
ہونے نماز کے قُرْبَۃً اِلٰی اللّٰہِ
دفعہ ناک میں پانی ڈالے اور نیت کرے۔۔ پھر پورے سر و گردن کو دھوئے۔۔ اس کے بعد
جسم کا دایاں حصہ کندھے سے پائوں کے تلوے تک اس طرح دھوئے کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ
جائے۔۔ پھر جسم کا بایاں حصہ کندھے سے پائوں کے تلوے تک اس طرح دھوئے کہ کوئی جگہ
خشک نہ رہنے پائے۔
چکناہٹ ہو تو صابن وغیرہ سے پہلے صاف کر لینا چاہیے۔
جنابت سے پہلے یا بعد وضو کرنا حرام ہے بلکہ غسل کے بعد نماز و دیگر امور بجا لا
سکتا ہے جن میں وضو شرط ہے۔
تمام اغسال کے ساتھ وضو کرنا پڑے گا اور بہتر ہے غسل سے پہلے وضو کیا جائے۔
پر غسل واجب ہو اس پر غسل کے بغیر مندرجہ ذیل امور کی بجا آوری حرام ہے:
کرنا ژ حروف قرآن کو مس کرنا
میں ٹھہرنا ژ مسجد میں کوئی چیز رکھنا ژ جن
سورتوں میں سجدہ واجب ہے ان کی تلاوت کرنا ژ مسجد
الحرام یا مسجد النبی میں داخل ہونا (البتہ مسجد میں پڑی ہوئی چیز کو اٹھانا اس کے
لئے حرام نہیں ہے(
Youtube
Anwar-ul-Najaf Publishing House
Facebook
https://www.facebook.com/anwarulnajaf/
Twitter
https://twitter.com/anwarulnajaf
