علم کی عظمت (قرآن مجید میں)
ٔ وحدت میں علم سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں، جبھی تو تمام انبیا ٔ علیہم السلام
کو اس نعمت سے نواز کر مبعوث فرمایا گیا، حضرت آدم ؑ کو خلعت علم سے آراستہ فرما
کر ملائکہ کہ گردنیں جھکا دیں جس سے انہیں آدم ؑ کی فضیلت کے اعتراف پر مجبور
ہونا پڑا، طالوت اور جالوت کے قصہ میں معیارِ خلافت ِ الٰہیہ۔۔ علم کو قرار دیا گیا،
حتی کہ حضرت رسالتمآب کو باوجودیکہ نعمات ِالٰہیہ کے جامع تھے بلکہ تمام کائنات
کیلئے ان کا مقدس وجود سرچشمۂ نعمات تھا تاہم ذات اَحدیت نے ان کو بھی اپنی
بارگاہ سے طلب علم پر مأمور فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا:
رَبِّ زِدْنِیْ عِلْماً۔
میں نعمت ِ علم ہی کو پیش فرمایا کرتے تھے، چنانچہ آپ ؑ کی طرف منسوب شدہ اشعار
میں ہے کہ آپ ؑ فرماتے ہیں:
کو مال ملا۔
اور غیر فانی ہے۔
منیۃ المرید میں قرآنی اقتباسات سے فضیلت علم کو ثابت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
جس کا ماحصل یہ ہے کہ خداوند عالم نے علمأ کو تمام ماسوا ٔپر فوقیت مرحمت فرمائی
ہے، چنانچہ فرماتا ہے: ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ
لا یَعْلَمُوْن
لوگوں کے جو علم نہیں رکھتے؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی برابر نہیں بلکہ عالم جاہل
سے افضل ہے۔
چیزوں کے تقابل کا ذکر فرمایا، مثلاً خبیث و طیب، نابینا و بینا، ظلمت و نور، جنت
ونار، اور سایہ ودھوپ، لیکن اگر نظر غائر سے ان کی تفسیر کا جائزہ لیا جائے تو
نتیجہ علم و جہل ہی نکلتا ہے، یعنی عالم کو طیب، بینا، نور، جنت اور ظل کے لفظوں
سے یاد کیا گیا ہے اور اس کے مقابلہ میں جاہل کو خبیث، نابینا، ظلمت، نار اور حرور
سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اور ملائکہ کے ذکر کے ساتھ یاد فرمایا، چنانچہ فرماتا ہے:
اللّٰہُ اَنَّہُ لا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَالْمَلائِکَۃُ وَاُوْلُوْ الْعِلْمِ
لائق عبادت نہیں اور ملائکہ اور صاحبان علم (یہ بھی شاہد ہیں)
تذکرہ فرمایا ہے: ۱۔۔ اہل بدر ۲۔۔
مجاہدین ۳۔۔
صالحین ۴۔۔
علمأ
الْمُوْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ الیٰ قولہٖ
لَھُمْ دَرَجَاتٌ سوائے اس کے نہیں کہ مومن وہی لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر
آئے تو ان کے دل تڑپ جائیں (یہاں تک کہ فرمایا) انہی کے لئے درجات ہیں۔
الْمُجَاہِدِیْنَ عَلٰی الْقَائِدِیْن الآیہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین (جہاد کرنے
والوں کو) بیٹھے رہنے والوں پر بدرجہا فضیلت کرامت فرمائی۔
مُوْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَاُوْلٰیئِکَ لَھُمْ الدَّرَجَاتُ الْعُلٰی
جو اللہ کے پاس مومن صالح ہو کر آئے گا پس ان کے لئے ہی بلند درجات ہوں گے۔
الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوْالْعِلْم دَرَجَاتٌ یعنی وہ
لوگ جو ایمان لائے ہیں اور وہ لوگ جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا وند اُن کے درجات
کو بلند فرماتا ہے۔
ملقب فرمایا ہے:
ایمان: وَالرَّاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ آمَنَّا یعنی
راسخ فی العلم کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔
توحید: شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہُ لا اِلٰـہَ اِلاَّ ہُوَ وَالْمَلائِکَۃُ وَ
اُوْلُوْا لْعِلْم یعنی اللہ تعالیٰ اپنی توحید کا شاہد ہے اور فرشتے اور علمأ۔
و حزن: اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوْ الْعِلْمَ الیٰ قولہٖ یَخِرُّوْنَ لِلاَذْقَان
الآیہ یعنی تحقیق وہ لوگ جو علم دئیے گئے ہیں وہ خدا کے سامنے سجدہ میں جھک
جاتے ہیں۔
خشوع: چنانچہ آیت گذشتہ اس پر دلالت کرتی ہے۔
خشیہ: اِنَّمَا یَخْشٰی اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَائُ یعنی خدا سے اس
کے بندوں میں سے صرف علمأ ہی ڈرتے ہیں۔
اگر فضیلت علم پر دلالت کرنے والی تمام آیات کو جمع کیا جائے تو طول ہو جائے گا،
اس مقام پر تبرکاً و تیمّناً جو کچھ ذکر کر دیا گیا ہے کافی ہے۔
متذکرہ سے علم کے فضل و کمال کو واضح کر دیا تو علم کی تحصیل کا وجوب از روئے عقل
و نقل ثابت ہے، عقلاً اس لئے کہ ہر کمال کا حاصل کرنا یا اس کے حصول کی کوشش کرنا
انسان کا عقلی فریضہ ہے اور علم بھی چونکہ کمال ہے لہذا اس کا طلب کرنا بھی عقلی
فریضہ ہے، قرآن مجید اس کا صریح طور پر یوں تذکرہ فرماتا ہے: لَوْ لا نَفَرٌ مِنْ
کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الِّدِیْن الآیہ (پ ۱۱
رکوع ۴) جس کا مرادی معنی یہ ہے کہ علوم فقہیہ دینیہ کے حاصل کرنے کے لئے ہر
قوم سے ایک ایک گروہ کیوں نہیں سفر کرتا؟گویا پورے ملک میں صرف ایک آدمی کے فقیہ
ہونے پر کفایت کرنا تو بجائے خود، ایک قوم کے لئے بھی ایک فقیہ کو کافی نہیں قرار
دیا گیا بلکہ ہر قوم میں متعدد فقہأ کی ضرورت کو واضح کیا گیا ہے جو قوم کے دینی
مسائل حل کریں اور فرائض تبلیغ انجام دیں اور ہر قوم پر واجب ہے کہ ان سے مسائل
دینیہ کا حل طلب کریں اور انہیں فرائض تبلیغ کے انجام دینے کا موقعہ دیں۔
مسائل دینیہ کے حاصل کرنے میں کوئی دقت نہ رہے، اگر ایک ملک میں صرف ایک ہی فقیہ
ہو تو ظاہر ہے کہ تمام ملکی عوام اس سے کما حقہ ٗ استفادہ نہیں کر سکتے، بعض اوقات
بعض ایسے ضروری مسائل درپیش ہو جاتے ہیں جو مطبوعہ رسائل و عملیات میں نہیں ملتے،
تو دریں صورت فقیہ کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ انکا حل مشکل ہو جاتا ہے، اگر صرف
ایک ہی فقیہ پورے ملک میں ہو تو نہ سب عوام مطمئن ہو سکتے ہیں اور نہ فقیہ خود
اپنے فرائض سے عہدہ بر آ ہو سکتا ہے، بخلاف اسکے اگر ہر قوم میں ایک ایک فقیہ ہو
تو پہلی صورت سے اس میں کافی آسانی ہے لیکن اگر ہر قوم میں متعدد فقہأ موجود ہوں
تو کسی وقت بھی کسی دشواری کا پیش آنا ناممکن ہے۔
کو سہلہ قرار دیتے ہوئے ہر قوم میں متعدد فقہأ پیدا کرنے کا حکم دیا تاکہ احکام
شرعیہ کے سیکھنے میں کوئی فرد ِبشر نارسائی کا شکوہ نہ کر سکے۔
واجب نہیں بلکہ ہر مجتہد جامع الشرائط کی تقلید ہو سکتی ہے اس مسئلہ کو ہم تفصیل
کے ساتھ زیر عنوان ’’ قرآن و تقلید‘‘ بیان کریں گے۔
