زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے؟ — از جعفر علی میر ایڈیٹر ندائے شیعہ لاہور۔۔۔۔۔ماہنامہ العابد لاہور(جنوری ۱۹۹۱ء )
دھرتی کانپ اٹھتی ہے
جامعہ علمیہ کربلا گامے شاہ لاہور میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی
سے جا ملے وہ جامعہ امامیہ میں ایک عرصے سے پرنسپل کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
قائم کی گئی اور اب تک بڑے نامور اور جیّد علمائے دین کسب فیض حاصل کر کے فارغ
التحصیل ہو چکے ہیں۔
کیا پھر دس سال علمی مدارج کے حصول کے لئے نجف اور دیگر حوزہ ہائے علمیہ سے علم
فقہ اور علم شریعت کے مراجع سے رجوع کرتے رہے اس دوران علامہ مفتی جعفر صاحب سے
بھی کافی رہنمائی حاصل کی۔
خطیب اور مصنف بھی تھے۔۔۔ جہاں تک ان کی تصانیف کا تعلق ہے ان میں سر فہرست قرآن
مجید کی تفسیر جو تفسیر انوار النجف کے نام سے بلند پایہ تفاسیر میں ایک منفرد
مقام کی حامل ہے اور ان کی تفسیرِ قرآن انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔۔۔ تفسیر چودہ
جلدوں پر مشتمل ہے، اس کے بعد اٹھائیس مجالس پر مشتمل ایک مبسوط کتاب اور تحقیقاتی
کتاب مجالس مرضیہ کے نام سے صاحبان ذکر و فکر کے لئے سیرابی نطق و لب کا سامان
مہیا کرتی ہے ان کی تیسری تصنیف جو بہت زیادہ شہرت کی حامل ہے اس کا نام اصحاب
الیمین ہے اس کے علاوہ ایک اور اہم تصنیف امامت و ملوکت کے نام سے صاحبان شعور کے
لئے سرچشمہ بصیرت اور اسلام میں شخصی مطلق العنانیت کے خلاف جہاد کی حیثیت رکھتی
ہے۔
میں ادا کی گئی جس میں کثیر تعداد میں مومنین کے علاوہ ایرانی کونصلیٹ آقائے علی
قمی نے بھی شرکت کی۔۔۔ علامہ حسین بخش جاڑا کی موت سے ہم ایک نامور محقق۔۔ عالم
علم فقہ اور بلند پایہ خطیب سے محروم ہو گئے ہیں۔
علامہ اثیر جاڑوی صاحب کو مرحوم کی موت پر پرسہ دیتے ہیں اور علامہ مرحوم کی مغفرت
کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں۔
