رفتارِ زمانہ | raftar e zamana | khilafat o malookiat
ان حالات کے پیش نظر ایک زبردست اقدام کی ضرورت تھی اور لوگوں کو کافی طاقت و قوت کے ذریعے اس لمبی غفلت اور طویل نیند سے جگانا تھااور انہیں ایک بار پھر باور کرانا تھا کہ اقتدار اور دین دو الگ الگ چیزیں ہیں اور اب حضرت علی کے زمانہ کی طرح حالات نہ تھے کہ لوگ اقتدار اور مذہب میں فرق نہ کرسکیں کیونکہ اس وقت اقتدار کا رویہ مذہب کے قریب قریب تھا اس لئے فرق کرنا عوام کے لئے مشکل تھالیکن اس وقت اقتدار کا راستہ مذہب کے راستے سے بہت دور نکل گیا تھا۔ اور حکومت کا طرز عمل اسلامی کردار سے بہت مختلف ہو چکا تھا اس لئے صرف ٹھوکر مارکر عوام کو جگانا ضروری تھا پس امام حسین علیہ السلام نے یزید کی تخت نشینی کا اعلان ہوتے ہی کمرہمت با ندھی اور توکل کی پشت پر سوار ہو کر عزم صمیم کر کے گھرسے نکل پڑے اور بالآخر اسلامی تقدیر کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور لہگوں کے لئے حق و باطل اسلام و اقتدار اور امامت و ملوکیت کے درمیان ایسا امتیازی نشان قائم کردیا جس کو کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔
آپ جب مدینہ سے چلے تو مکہ ہی منزل مقصود تھی اور چہار ماہ کا عرصہ وہاں رہے ۔ عبداللہ بن زبیر بھی مکہ ہی میں تھا۔ اموی غیر اسلامی حکومت اور ان کے مظالم کے تذکرے اور اسلامیان عالم کے لئے اس سے نجات پانے کی تدابیر بھی زیر غور آتی رہیں لیکن پوری طاقت کے بغیر کسی اقتدار کا تختہ الٹنے کا تصور بھی کوئی دانا انسان نہیں کرسکتا اور خصوصاً جب کہ بزید جیسا مذہب و دین کی قیور سے آزاد نا خدا ترس انسان تخت حکومت پر تمکن ہو جس سے اقتدار کی حفاظت کے لئے ہر بڑے سے بڑے گناہ اور سخت سے سخت جرم کو کر گذرنے کی توقع کی جاسکتی ہو اور ایسے حالات میں جب کہ لوگوں میں دینی قیادت اور دیاسی قیادت کے درمیاں فرق کا تصور بھی نہ ہو بنابرین مودودی صاحب کا یہ دعوٰی قطعًا حقائق سے چشم پہشی کے مترادف ہے۔براشبہ وہ اہل عراق کی دعوت پر یزید کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے تشریف لے جارہے تھے، سنہ 179 خلافت وملوکیت ۔ بلاشبہ مودودی صاحب کا یہ شبہ غلط ہے جس کو اگلے لفظوں میں خود انہوں نے اپنے قلم سے باطل کر کے رکھ دیا ہے۔ فرماتے ہیں یہ تو امر واقعہ ہے کو وہ کوئی فوج لے کر نہیں جارہے تھے بلکہ ان کے ساتھ ان کے بال بچے تھے اور صرف 32 سوار اور چالیس پیادے اسے کوئی شخص بھی فوجی پڑھائی نہیں کہ سکتا اگر اسے فوجی چڑھائی کوئی نہیں کہ سکتا تو ایک بہت بڑی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے روانگی اسے کون کہ سکتا ہے؟

%20(16).jpg)
Leave a Reply