surah munafiqun read online sura al munafiqoon pdf al munafiqoon sharif arabic english urdu | سورة المنافقون (63)
Surah Munafiqun PDF
Download here!
Surah Munafiqun Arabic Text
سورة المنافقون (63)
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
إِذَا جَاءكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ (1) اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاء مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (2) ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ (3) وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (4) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ (5) سَوَاء عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (6) هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَى مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ (7) يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (8) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (9) وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ (10) وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاء أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (11)
Surah Munafiqun Urdu Text
اللہ کے نام سے جو رحمٰن و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں)
جب تیرے پاس منافق آئیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک تو اس کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں ﴿١﴾ انہوں نے اپنی قسموں کو (اپنی حفاظت کے لئے) ڈھال بنا لیا ہے پس انہوں نے اللہ کے دین سے روکا وہ بُرا کردار ادا کرتے ہیں ﴿٢﴾ کیونکہ وہ پہلے ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگ گئی پس وہ نہیں سمجھتے ﴿٣﴾ اور جب آپ ان کو دیکھتے ہیں تو ان کے اجسام آپ کو بھلے معلوم ہوتے ہیں اگر وہ بات کریں تو آپ کان دھر کر سنتے ہیں ان کی مثال سہارے پہ کھڑے ہوئی لکڑی جیسی ہے وہ ہر آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں وہی تمہارے دشمن ہیں ان سے بچو ان پر خدا کی لعنت ہو کیسے روگردانی کرتی ہیں ﴿٤﴾ اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ تاکہ تمہارے لئے اللہ کا رسول بخشش طلب کرے تو اپنے سروں کو چکر دیتے ہیں اور ازراہِ تکبر روگردانی کرتے ہیں ﴿٥﴾ برابر ہے ان کے لئے بخشش کی دعا کرو یا نہ کرو اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا بے شک اللہ فاسق لوگوں کو (جبری طور پر) ہدایت کی طرف نہیں لاتا ﴿٦﴾ یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ (بھوک سے تنگ آکر) بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمینوں کے خزانے اللہ کے پاس ہیں لیکن منافق لوگ نہیں سمجھتے ﴿٧﴾ کہتے ہیں اگر ہم واپس مدینہ میں گئے تو جو ہم میں سے عزیز ہوگا ذلیل ہوکر نکال دے گا حالانکہ عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لئے ہے لیکن منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے ﴿٨﴾ اے ایمان والو! تمہیں اپنے اموال و اولاد ذکر خدا سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ ہی خسارہ پانے والے ہوں گے ﴿٩﴾ اور میرے عطا کردہ رزق سے خرچ کیا کرو قبل اس کے کہ تم پر موت آجائے پھر کہے اے رب کاش تو مجھے تھوڑی سی مدت کی مزید ڈھیل دے دیتا تاکہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا ﴿١٠﴾ اور ہرگز نہ ڈھیل دے گا اللہ کسی نفس کو جب اس کی موت آجائے اور اللہ آگاہ ہے اس سے جو تم عمل کرتے ہو ﴿١١﴾
خواص – سورہ المنافقون
- یہ سورہ مدینہ ہے سورہ حج کے بعد نازل ہوا اور اس کی آیات بسم اللہ سمیت بارہ 12 ہیں
- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے ہمارے شیعوں پر ضرور ی ہے کہ شب جمعہ کی نمازوں میں سورہ جمعہ اور سورہ اعلی پڑھیں اور جمعہ کی نماز ظہر میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقین پڑھیں پس جو ایسا کر ے گا اس نے گویا رسول اللہ کا عمل کیا اور اس کا ثواب اور جزا جنت ہو گی
- رسالتمآب ﷺ سے منقول ہے جو شخص اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کرے گا وہ شر ک و نفاق سے بری ہو گا اگر یہ سورہ پھوڑے پر پڑھی جائے تو وہ ختم ہو گا اور اگر کسی باطنی درد پر پڑھی جائے تو درد ساکن ہو گا ایک روایت میں ہے کہ کسی مریض و درد مند پر پرھی جائے تو اللہ تعالی اس کو شفا دے گا
- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اگر آشوب چشم پر پڑھی جائے تو خدا اس کی تکلیف میں تخفیف کریگا
- اور فوائد القرآن میں ہے کہ آیت نمبر 5 واذا رائیتھم تا آخر کو ایسی مٹی پر پڑھے جس پر سورج نہ پڑا ہو اور اس مٹی کو دشمن کے منہ پر چھڑک دے جب کہ و ہ غافل ہو تو وہ اس کے شر سے محفوظ رہے گا باذن اللہ
Surah Munafiqun Transliteration Urdu | تفسیر سورہ منافقون
رکوع نمبر 13 محل نزول
مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیات عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کے حق میں اتری واقعہ یہ ہے کہ ہجرت کے پانچویں بر س حضور کو اطلاع ملی کہ بنی المصطلق اہل اسلام سے لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں جن کی فوجی قیادت حارث بن ابو ضرار کر رہاہے اور یہ زوجہ پیغمبر جو یر یہ کا باپ تھا حضو رﷺ نے اپنے ہمراہ لڑاکا فوجی جوان لے کربنفس نفیس ان کی طرف کوچ فرمایا چنانچہ مقام مریسیع پر جو ساحل سمندر کے قریب تھا دونو ں فوجوں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی اور بآلاخر نبو المصطلق کو شکست فاش ہوئی او رمسلمان کا فی مال غنیمت لے کرواپس پلٹے اسی دوران میں فوج اسلام کا ایک کنوئیں پر نزول اجلال ہو ا تو ایک ناخوش گوار واقعہ پیش آگیا اور وہ یہ کہ عمر بن خطاب کے غلام جہجاہ بن سعید غفاری اور انس بن سیار انصاری یا بروایتے سنان جہنی خزرجی کے درمیان پانی لینے میں جھگڑا ہو گیا تو جہجاہ نے انصاری کے منہ پر ایسے سیار انصاری یا بروایتے سنان جہنی خزرجی کے درمیان پانی لینے میں جھگڑا ہو گیا تو جہجاہ نے انصاری کے منہ پر ایسے زور سے تھپڑ مارا کہ اس کے منہ سے خون جاری ہوگیا پس اس نے انصار کو مدد کے لئے بلایا اور جہجاہ نے مہاجرین سےامداد طلب کی چنانچہ طرفین نے تلواریں علم کر لیں اور قریب تھا کہ باہمی فساد کی آگ بھڑک اٹھے جعال نامی ایک فقیر شخص بھی جہجاہ کی مدد کر رہا تھا عبداللہ بن ابی نے جعال کو ٹوکا تو اس نے نہایت سختی سے اس کی بات کو ٹھکرا دیا جس سے عبداللہ بن ابی کو زیادہ غصہ آیا اور انصار سے کہنے لگا کہ یہ تم (انصار) لوگوں کو اپنی کرنی کی سزا ہے تم نے ان (مہاجرین )لوگوں کو اپنے گھروں میں ٹھکانا دیا اور ان سے اظہار ہمدردی کیا ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں کہ تمہاری عورتیں بیوہ ہوئیں اور تمہارے بچے یتیم ہوئے اگر ان لوگوں کو تم نکال دیتے تو ان کا کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا پھر کہنے لگا اب جو ہم واپس مدینہ کی طرف پلٹیں گے تو ہم میں سے جو عزیز ہوگا وہ ذلیل کونکال دےگا (اس سےاس کا اشارہ اس طرف تھا کہ ہم رسول اللہ کو مدینہ سے نکال دیں گے ) اس وقت عبداللہ بن ابی کے اردگرد چند انصاری جمع تھے اور ان میں زید بن ارقم بھی موجود تھا جو ابھی بالکل نو عمر تھا اس کو غصہ آیا اور عبداللہ بن ابی سے کہنے لگا کہ خدا کی قسم تو ہی ذلیل ہے اور محمد خدا کی دی ہوئی عزت کی بدولت مومنوں کی محبت کا مرکز ہے تیری ا س بکواس کے بعد میں تیرے ساتھ کبھی رابطہ محبت قائم نہ کروں گا عبداللہ بن ابی نے کہا تم خاموش رہو میں نے شغلابات کہہ د ی ہے
یہ دوپہر کا وقت تھا اور حضو رﷺ اس وقت مہاجرین و انصار کی ایک جماعت کے ہمراہ ایک درخت کے نیچے تشریف فرماتھے زید بن ارقم نے آکر ساری کہانی سنا دی آپ نے فرمایا شاید تجھے غلط فہمی ہوئی ہو اس سے عرض کی نہیں حضورﷺ : آپ نے فرمایا شاید تو اپنا غصہ نکال رہا ہے کہنے لگا نہیں حضورﷺ ایسا ہرگز نہیں آپ نے فرمایا شاید اس نے تجھے گالیاں د ی ہو ں گی زید نے عرض کی خدا کی قسم یہ بات بھی نہیں ہے پس آپ نے اپنے غلام شقران کو سواری لانے کا حکم دیا اور فورا سوار ہو کر روانہ ہو گئے پس لوگ جونہی سنتے گئے اپنی سواریوں پر یا پیدل روانہ ہو گئے لیکن ہر ایک کے دل میں یہ بات کھٹکتی رہی کہ دوپہر کی سخت گرمی میں حضور ﷺ کے کوچ فرما نے کی کیا وجہ ہو گی چنانچہ سعد بن عبادہ نے بڑھ کر سوال کر ہی لیا توحضورﷺ نے فرمایا کہ تم نے عبدا للہ بن ابی کی بات سنی کہ ہم میں سے جو عزیز ہے وہ ذلیل کو نکال دے گا سعد بن عبادہ نے عرض کی حضور والا آپ اور آپ کے ساتھی ہی عزیز ہیں اور وہ اور اسکے ساتھ ذلیل ہیں اس کے بعد سارا دن سفر جاری رہا لیکن صحابہ میں سے کسی کو بھی حضور ﷺ کے ساتھ بات کرنے کی جرات نہ ہوئی قبیلہ خزرج کے لوگو ں نے عبداللہ بن ابی کو نہایت برا بھلا کہا کہ تونے ایسی ذلیل حرکت کیوں کی ہے ؟ تو اس نے اپنی بات سے انکار کردیا انہوں نے کہا چلو رسول اللہ کے سامنے اپنی صفائی پیش کر لو تو اس نے گردن دوسری طرف پھیر دی اس کے بعد ساری رات سفر جاری رہا دوسرے دن صبح کے وقت آپ سواری سے اترے اور تمام لوگوں نےشب بیداری کے بعد زمین پر آرام کیا
عبداللہ بن ابی حضور کے سامنے پیش ہواتو اس نے قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کی اور کہا کہ زید نے بالکل جھوٹ کہا ہے اور کہنے لگا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پس حضورﷺ نے اس کا عذر قبول کرلیا اور قبیلہ خزرج کے لوگوں نےزید بن ارقم کو بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تم نے ایک جھوٹی بات کہہ کر خواہ مخواہ حضورﷺ کو پریشان کیاہے
تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ دوران سفر میں اسید بن خضیر نے آپ سے جلد ی سفر اختیار کر نے کی وجہ پوچھی تو آپ نے عبداللہ بن ابی کی بات دھرائی اسید نے کہا آپ ہی عزیز ہیں او روہ ذلیل ہے اگر آپ چاہیں تو اس کو نکال سکتے ہیں پھر کہنے لگا کہ وہ بے چارہ قابل رحم ہے کیونکہ آپ کی تشریف آوری سے پہلے اس کی پوری قوم سے موتیوں کاجڑاؤ دار تاج تیار کر رکھا تھا تاکہ اس کو اپنی قوم کا بادشاہ نامزد کریں اور اس کی تا جیوشی کی رسم قریب تھی کہ حضور ﷺ تشریف لائے پس اس کی امنگیں خاک میں مل گئیں پس وہ اپنی تاج سے محرومی کا ذمہ دار آپکو ہی ٹھیراتا ہے لہذا آپ اسکی باتوں سے تاثر نہ لیں وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا جب عبداللہ بن ابی کے بیٹے جس کا نام عبداللہ تھا کو خبر پہنچی تو بارگاہ نبو ی میں حاضر ہوا او راس نے عرض کی کہ میں نے سنا ہے آپ میرے والد کو قتل کروانا چاہتے ہیں اگر یہ بات درست ہے تو مجھے حکم دیجئے کہ اس کا سر قلم کر کے آپ کے قدموں میں ڈال دوں اور تمام قبیلہ خرزج جانتا ہے کہ میں والدین کا بہت زیادہ خدمت گذار ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کسی اور کو میرے باپ کے قتل کا حکم دیدیں اور میرے دل میں باپ کے قاتل کے حق میں غصہ پیدا ہو اور ہو سکتا ہے کہ باپ کے قتل کے انتقام میں اس کو قتل کر بیٹھوں اور اس مومن کو قتل کر کے جہنم کا ایندھن بنوں لہذا بہتر یہ ہے کہ آپ مجھے ہی حکم دیں تاکہ آپ کی اطاعت کا فریضہ میں خود بجالاؤ اورآپ نے فرمایا تم جاؤ اور باپ سے اچھا سلوک جاری رکھو اور جب تک وہ ظاہرا ہمارے ساتھ ہے خدمت میں کوتاہی نہ کرو
بہر کیف حضور ﷺ نے دوسرے دن آرام فرمایا اور اس قدر لمبا سفر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ لوگ سفر کے خیال میں پڑ جائیں اورعبداللہ بن ابی کی بات کو اہمیت دے کر فساد میں نہ پڑیں اس کے بعد پھر کوچ فرمایا اور مدینہ کے قریب ایک جگہ ڈیرہ لگایاجسے بقعاء کہاجا تاہے پس وہاں تیز آندھی چلی جس میں حضور ﷺ کی ناقہ گم ہو گئی اور آپ نے خبر دی کہ مدینہ میں ایک بہت بڑا منافق آج فوت ہو گیا ہے لوگوں نے پوچھا وہ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رفاعہ مر گیا ہے یہ سن کر ایک منافق کہنے لگا یہ عجیب بات ہے ادھر غیب کے علم کا دعوی کرتاہے ادھر اونٹنی کے گم ہونے کا شکوہ ہے جو جبریل اس کو غیب کی خبریں سناتاہے و ہ اس کو اونٹنی کاپتہ نہیں بتا سکتا جب حضور ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا میں نے کبھی عالم الغیب ہونے کا دعو ی نہیں کیاالبتہ اللہ نے مجھے اس منافق کی بات کی خبر بھی دیدی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ میری اونٹنی وادی کی فلاں گھاٹی میں موجود ہے چنانچہ وہ وہاں موجود تھی اور یہ دیکھ کر منافق سچے دل سے ایمان لانے پر موفق ہوا
واذا رائیتھم یعنی منافق لوگوں کی شکلیں اچھی ہیں اور جب بات کرتے ہیں تو وہ نہایت پیارے انداز اور بیٹھے لب و لہجہ سے گویا ظاہرا یہ خیال ہی نہیں پڑتا کہ ان کی زبان پر کچھ اور ہے اور دل میں کچھ اور ہے
کانھم خشب یعنی جس طرح کھوکھلی لکڑی کا ظاہر بھلا معلوم ہوتاہے اور اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا منافقوں کی بعینیہ وہی مثال ہے یا یہ کہ جس طرح لکڑی کا جسم روح سے خالی ہوتاہے اسی طرح یہ بھی روح کے بغیر اجسام ہیں یعنی ان کی شکلیں انسانوں جیسی ہیں لیکن عقل درخرد کی اور سوجھ بوجھ کی نعمت سے محروم ہونے کی وجہ سے ان کی مثال لکڑیوں جیسی ہے
یحسبون یعنی اس قدر بزدل ہیں کہ جہاں کوئی دھماکہ ہوتو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم پر ہی پڑنے والا ہے علیھم میں علی ضرر کے لئے ہے اور وہ ہر آواز کو اپنے خلاف خیال کرتے ہیں اور جب وحی اترنے والی ہوتو ان کو یہی خیال ہوتاہے کہ ہمارے خلاف کوئی حکم ہو گا
ھم العدو یعنی یہ لوگ درحقیقت تمہارے دشمن ہیں اور ان سے ہر ممکن طریقہ سے بچنے کی کوشش کرو
القصہ جب آپ دارد مدینہ ہوئے تو معلوم ہواکہ بنی قنیقاع میں سے ایک گبر یہودی رفاعہ بن زید کو تابوت میں رکھا جاچکا ہے
بروایت مجمع البیان زید بن ارقم کہتاہے میں شرمساری سے گھر میں بیٹھ گیا اور فرط غم کی وجہ سے باہر نکلنا میرے لئے مشکل ہوگیا اور دوسری روایت میں ہے کہ اس نے اللہ سے دعاکی اے اللہ توجانتا ہے کہ میں نے عبداللہ بن ابی پرجھوٹا الزام نہیں لگایا تھا لہذا تومیر ی مشکل آسان فرما چنانچہ آپ پر وحی اتری اور سورہ منافقین کی آیتیں نازل ہوئیں زید کہتاہے کہ حضور ﷺ نے میرے کان سے پکڑ ا اور اٹھایا پھر فرمانے لگے اے لڑکے تونے سچ کہاتھا اللہ نے قرآن بھیج کر تیری صفائی پیش کردی ہے
عبداللہ بن ابی سارے قافلے کے آخر میں تھا جب اس کے بیٹے کومعلوم ہوا کہ قرآن مجید نے عبداللہ بن ابی کومنافق قرار دیا ہے اور زید کومیری کر دیاہے تو شہر سے باہر نکل کر اس نے اپنے باپ کا راستہ روک دیا کہ تم اس شہر میں ہرگز داخل نہیں ہو سکو گے جب تک رسول اللہ اجازت نہ دیں اور آج پتہ چلے گا کہ عزیز کون ہے اور ذلیل کون ہے چنانچہ باپ کو روک کر واپس بارگاہ نبوی میں آیا اور ماجرا بیان کیا آپ نے فرمایا اس کو آنے دو تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ نے کہا کہ چونکہ رسول اللہ کا حکم ہے لہذا سر تسلیم خم کرتا ہوں چنانچہ اس نے اپنے باپ کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت د ی اس کے بعد وہ تھوڑے دن زندہ رہا اور مر گیا
تعالو ایستغفر مروی ہے کہ جب سورہ منافقین کی متذکرہ بالا آیتیں اتریں لوگوں نے عبداللہ بن ابی نے کہا کہ تیرے بارے میں قرآن مجید کی سخت آیتیں نازل ہوئی ہیں تمہارا فرض ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی غلطی کی معافی طلب کرو تاکہ رسول ﷺاللہ تمہارے لئے خدا سے تمہارے گناہ کی بخشش طلب کریں تو اس نےسر کو مروڑا اور کہنے لگا تم نے مجھے ایمان لانے کو کہا تو میں نے ایمان کو قبول کیا تم نے مجھے زکوۃ دینے کو کہا تو میں نے زکوۃ بھی دیدی اب اگر تم کہوکہ میں محمد کا سجدہ کروں یہ ہزگز نہیں ہوسکتا
ھم الذین عبداللہ بن ابی نے انصار سے کہا تھا کہ اگر تم لو گ ان مہاجرین کو خرچ دینا بند کردو تو یہ خو د بخود مدینہ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے پس یہ آیت اسی کی طرف اشارہ ہے اوراس کا جواب بھی ہے کہ رزق کے خزانوں کے مالک یہ لوگ نہیں بلکہ اللہ خود مالک ہے
حضرت علی کا دشمن منافق ہے
باطن آیات تفسیر برہان میں ہے کہ منافقوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے وصی رسول ہونے کاانکار کرتے ہیں اور آپ کی ولایت سے روگردانی کرتےہیں اور اس کی تائید ان متواتر احادیث سے ہوتی ہے جن میں صراحت سے مروی ہے کہ حضرت علی ؑ سے بغض رکھنے والے منافق ہو ا کرتے ہیں چنانچہ صواعق محرقہ ابن حجر مکی میں ص 120 پر بروایت صحیح مسلم حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے آپ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس نے دانہ شگافتہ کیا اور روح کو پیدا کیا حضرت رسالتمآب ﷺ کا مجھ سے عہد ہے کہ میرے ساتھ نہیں محبت کرے گا مگر مومن اور نہیں دشمنی رکھے گا مگر منافق اور بروایت ترمذی ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے کنا نعرف المنافقین ببغضھم علیا یعنی ہم حضرت علی علیہ السلام کے بغض کی نشانی سے منافقوں کوپہچان لیا کرتے تھے اس قسم کی احادیث معنوی طور پر تواتر سے منقول ہیں پس اس اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمارے دلوں میں حضرت علی اور ان کی اولاد طاہرین کی محبت و ولایت کاچراغ روشن فرما کردولت ایمان سے سر فراز فرمایا
رکوع 14 (سورہ منافقون)
فیقول رب تفسیر مجمع البیان میں ابن عباس سے منقول ہے کہ جس انسان پر زکوۃ واجب ہو اور ادا نہ کرے یا جس پر حج واجب ہو اور نہ ادا کرے وہ مرنے کے وقت یہ تمنا کریں گے اور آیت میں صلاح سے مراد حج لی گئی ہے اور حضرت صادق علیہ السلام سے بھی اس قسم کی روایت نقل کی گئی ہے
نصحیت و عبرت
آیت مجید ہ میں ہر ذی شعور کو اپنے انجام پر نظر رکھنے کی دعوت دی گئی ہے گویا زندگی کی حاصل شدہ آسائشوں میں پڑ کر موت کے بعد کی تلخیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے بلکہ زندگی میں بھی وقتی عیش و راحت میں کھو کر انقلابات زمانہ کے ماتحت مستقبل کی تلخیوں کا پہلے سے علاج سوچ لینا چاہئے بس جو ان کے لئے ضروری ہے کہ جوانی کے مابعد پر نظر رکھے اور حکمران کوچاہئے کہ کرسی اقتدار کی منتقلی کے بعد اپنے انجا م کی تاریکی کو نظر انداز نہ کرے گویا ماضی کے بعد تلخ تجربہ کوردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے بجائے اسے مستقبل کا پاسبان بنانا ہو شمندی کا تقاضا ہے پس اس دستور کے ماتحت اپنی زندگی میں ہی موت لئے تیار رہنے کی قرآن مجید نے دعوت دی ہے تاکہ اس وقت کف افسوس ملنے کے بجائے پورے اطمنیان کے ساتھ دارفنا سے واربقا کی طرف منتقلی کاشرف نصیب ہو اور انسانوں کی عمومی غافلانہ زندگی کی طرف مولائے کائنات و حلال مشکلات حضرت شاہ ولایت امیر المومنین علی علیہ السلام نے اپنے ایک فرمان میں اشارہ فرمایا ہے الناس نیام اذا ماتو اانتبھو ا یعنی ظاہرا جیتے جاگتے لوگ درحقیقت خواب غفلت میں ہیں جب ان پر موت آئے گی تو جاگیں گے اور قرآن مجید کی متذکرہ بالا آیت میں اسی خواب غفلت سے جاگنے کی دعوت عامہ ہے اور راہ خدا میں اپنی مطلق فالتو آمدنی کو صرف کرنے کی پیشکش ہے کیونکہ ہررقم بچا کر موت سے ہم آغوش ہونے والا دم مرگ یہی افسوس کرے گا کہ کاش مجھے تھوڑی سی مزید زندگی حاصل ہو جاتی تاکہ اپنی بحث کو راہ خدا میں خرچ کرکے زمرہ صالحین میں میرا شمار ہو جاتااور حدیث میں ہے کہ اپنے ہاتھ سے اپنی زندگی میں خرچ کیا ہو ا ایک درہم ان ہزاروں درہموں سے زیادہ نفع بخش ہے جو اس کی موت کے بعد اسکے لئے خرچ کئے جائیں۔

.jpg)
Leave a Reply