آدابِ قاری (عالم و متعلّم قرآن)
ِاحادیث میں موجود ہے اگر یکجا کیا جائے تو شاید ایک ضخیم کتاب مرتّب ہو جائے، اس
جگہ جو کچھ میں ذکر کر چکا ہوں وہ حضرات اہل بیت ؑ کے جملہ اقوال کے مقابلہ میں
قطرہ ازدریا یاذرّہ از ریگ ِ صحرا ہے، حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے والا باطنی طور
پر ذات ِاقدسِ الٰہی سے باتیں کر رہا ہوتا ہے، لہذا یہ خیال کرنا بھی اس کیلئے
ضروری ہے کہ جس ذات سے وہ ہم کلام ہے اس کے مناسب آداب بھی ملحوظ رکھے کیونکہ
قرآن کا پڑھنا صرف تعلقہ لسانی کا نام نہیں بلکہ ساتھ ساتھ تعلق روحانی کے وابستہ
رہنے کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ یہود کی مثال صادق نہ آئے :
یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا۔
نہ بنے (عامل نہ بنے) اُن کا تورات اٹھانا مثل کتابوں سے بارشدہ گدھے کے ہے۔
کو تلاش کرتے ہیں اور رزق عالم کو تلاش کرتاہے، ہاں عالم کو بھی چاہیے کہ خدا کے
بھیجے ہوئے رزق پر صبر و قناعت کرے، وہ بد ترین علمأ ہیں جو رز ق کی خاطر رؤسا
کے دروازں کا چکر لگا کر نعمت ِعلم کی توہین کریں اور نیک ترین اُمرأ ہیں وہ جو
دین کی خاطر علمأ کے دروازوں کا طواف کر کے وقار ِعلم کو دوبالا کریں، روایت میں
ہے ایک زمانہ ہو گا کہ علمأ کی زبان پر قرآن ہو گا لیکن حنجرہ سے نیچے نہیں
اُترے گا۔
لعنت کرتا ہے۔
رضائے خالق مطلوب ہو، مخلوق کی دادِ تحسین مطعِ نظر نہ ہو، ریا کاری اور دکھاوا نہ
ہو اور مال و دولت کمانا بھی مطلوب نہ ہو۔
فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک شخص نے علم سیکھا اور کچھ مدت حضرت
موسیٰؑ کی صحبت میں رہنے کے بعد اجازت چاہی تو حضرت موسیٰؑ نے اس کو دنیاداروں کے
دروازوں پر جا کر نعمت ِ علم کی توہین سے باز رہنے کی نصیحت فرمائی، اس شخص نے
ظاہراً حضرت موسیٰؑ کی نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کرنے کا وعدہ کیا تو آپ ؑ
نے اس کو رخصت دے دی لیکن بہت جلد واپس آنے کی فرمائش بھی کی وہ چلا گیا اور واپس
نہ آیا، جب کافی دن گزر گئے تو حضرت جبرائیل ؑ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو
جبرائیل ؑنے بتلایا کہ وہ بصورت ِبندر مسخ ہو کر در بدر پھر رہا ہے آپ ؑ نے بار
گاہِ قاضی الحاجات میں اس کی اس مصیبت کے دفع ہو جانے کی دعا مانگی اور اس کے
گناہوں کی بخشش کے لئے عرض کی تو ذات ِاحدیت کی طرف سے خطاب ہو ا:
میں نے علم جیسی گراں بہا نعمت اس کو مرحمت کی تھی لیکن اس نے جہلا ٔکے در وازوں
کا طواف کر کے میری نعمت کی بے قدری کی ہے (لہذا اب وہ اسی سزا کا مستوجب و حقدار
ہے اس اب کی کوئی سفارش نہ کرو)
کیلئے نہ پڑھے بلکہ اپنے کانوں کوسنا کر دل کو اس کی طرف متوجہ کر ے۔
درس عبرت حاصل کرنا چاہے، عالم بے عمل مثل شجر بے ثمر کے ہے اور جو شخص لوگوں کو
نصیحت کرے اور خود نصیحت پذیر نہ ہو وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق ہے:
تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ
اور خود اپنے نفسوں بھُلا دیتے ہو؟
نصیحت سے دوسرے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور جنت میں چلے گئے اور وہ خود اپنی بد
اعمالیوں کی بدولت جہنم کا مستحق ہوگا، اورجب تک کوئی عالم اپنے وعظ سے خود متاثر
نہ ہو اس کے وعظ سے دوسرا کوئی نصیحت بھی قبول نہیں کرتا (جوبات دل سے نکلتی ہے
اثر رکھتی ہے) اور یہ امر بھی یقینی ہے کہ جب تک انسان امراضِ باطینۂ روحانیہ سے
نجات حاصل نہ کر لے۔۔۔ فیوض و برکات ِعلمیۂ قرآنیہ اس کے دل و دماغ پر قطعاً
باعث ِنورانیت نہیں ہو سکتے اور نہ و ہ لذّات قرآنیہ سے بہر ہ اندوز ہو سکتا ہے۔
کہ وہ لذّت ِعبادت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
فَتَنْفَعُہٗ الذِّکْرٰی
