زکواۃ فطرہ کا بیان | zakat fitrah ka bayan | donate in islam
ماہ رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی اور عید الفطر کا چاند
دیکھتے ہی فطرہ کا نکالنا واجب ہے یہ قبولیت روزہ کی علامت ہے جیسا کہ تشہد میں
درود پڑھنا نماز کے قبول ہونے کی علامت ہے۔
، آزار ہونا ، غنی
ہونا (غنی وہ ہے جو اپنے واجب النفقہ متعلقین کے سال بھر کے خرچہ پر قادر ہو)
نکالنا بہتر ہے اور زوال روز عید تک تاخیر کرنا جائز ہے اگر زوال تک نہ نکالے تو
عید کی شام تک قربت مطلقہ کی نیت سے دے۔۔۔۔ اس مہمان کا فطرہ بھی دے جو قبل رؤیت
ہلال شب عید الفطر آجائے اور افطار اس کے ہاں کرے لیکن اگر مہمان چاند نظر آجانے
کے بعد آئے تو خواہ اس کے ہاں کھانا بھی کھائے میزبان پر اس کا فطرہ واجب نہ ہوگا
اگر میزبان فقیر ہے اور مہمان غنی تو خود مہمان پر اپنا فطرہ واجب ہے۔۔ اسی طرح
اگر بیوی مالدار ہو اور اس کا شوہر فقیر ہوتو بیوی اپنا فطرہ خود ادا کرے گی۔
استعمال ہو (مقدار ایک صاع ہے جو کہ تقریباً تین سیر بنتے ہیں) رائج الوقت نرخ سے
قیمت دینا بھی درست ہے۔
اسی طرح ہمسایہ کو غیر پر۔۔ اسی طرح اہل علم کو جہلا پر ترجیح دے اور دورِ حاضر کے
دینی مدارس اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔
