نکاحِ متعہ | nikah muttah | mutah marriage
عورت و مرد کے لئے جنسی
تعلقات دو طرح سے حلال ہوتے ہیں ایک نکاح دائمی سے اور دوسرا نکاح متعہ سے جو حضرت رسالتمآبؐ کے زمانہ
میں جائز تھا اور قرآن مجید پارہ ۵کی پہلی آیت میں اس کے جواز کی دلیل
موجود ہے جو منسوخ نہیں ہوئی۔
سے منقول ہے آپؑ نے فرمایا (فلاں) شخص پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ نہ ہوتا تو زنا
نہ کرتا مگر کوئی بدبخت۔۔ کیونکہ مسلمان نکاح متعہ کر کے زنا سے بچ جاتے۔۔ پھر
آپؑ نے یہ آیت پڑھی : وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْجِبُکَ قَوْلُہُ
۔۔۔الآیۃ
پسند کرتا کہ کوئی آدمی متعہ کئے بغیر دنیا سے کوچ کرے اگرچہ ایک دفعہ ہی سہی۔۔
دوسری روایت میں ہے میں ناپسند کرتا ہوں اس شخص کو جو رسول اللہ کی ایک سنت کو
چھوڑ کر مرے۔۔تیسری روایت میں ہے تمہیں اس وقت تک موت نہ آئے جب تک کہ رسول اللہ
کی ایک مردہ سنت کو دوبارہ زندہ نہ کر لو۔
دریافت کیا کہ متعہ کا ثواب کیا ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا کہ اگر اللہ کی خوشنودی اور
فلاں کی مخالفت کے لئے متعہ کرے تو اپنی ممتوعہ زوجہ کے ساتھ بات کرنے میں اس کو
ایک ایک لفظ کے بدلہ میں نیکی کا ثواب ہوگا اور اس کی مقاربت سے اس کے گناہ محو
ہوں گے اور جب غسل کرے گا تو اس کے بالوں کی تعداد میں اس کے گناہ معاف ہوں گے۔
شیعوں پر شراب کو حرام کیا اور اس کے بدلہ میں متعہ کو جائز قرار دیا۔
قطرہ سے خدا ستر فرشتے خلق فرماتا ہے جو اس کے لئے دعائے مغفرت کریں گے اور اس سے
پرہیز کرنے والے پر لعنت کرتے رہیں گے۔
پڑھیں تو اس کا طریقہ یہ ہے:
الْمَعْلُوْمَۃِ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْمِ
الْمُدَّۃِ الْمَعْلُوْمَۃِ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْمِ
صیغے اس طرح ہوںگے:
الْمُدَّۃِ الْمَعْلُوْمَۃِ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْمِ
الْمُدَّۃِ الْمَعْلُوْمَۃِ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْمِ
وکیل ہوں تو دونوں وکیل اس طرح صیغہ جاری کریں گے:
الْمُدَّۃِ الْمَعْلُوْمَۃِ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْمِ
الْمُتْعَۃَ لِمُوَکِّلِیْ فِی الْمُدَّۃِ الْمَعْلُوْمَۃِ عَلٰی
الْمَہْرِ الْمَعْلُوْمِ
عورت خود متعہ کا صیغہ پڑھنا چاہیں اور عربی صیغہ جاری نہ کر سکتے ہوں تو اپنی
زبان میں بھی صیغہ جاری کیا جا سکتا ہے۔۔ چنانچہ پہلے عورت کہے گی کہ میں نے متعہ
میں دی تجھے اپنی جان معین مدت کے لئے مقرر شدہ حق مہر پر۔۔۔ مثلاً ایک سال کے لئے
ایک سو روپیہ حق مہر پر،پھر مرد کہے میں نے اپنے لئے متعہ کو قبول کیا مثلاً ایک
سال کے لئے ایک سو روپیہ حق مہر پر۔
عورت و مرد ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔
اولاد اپنے ماں باپ کی صحیح وارث ہو گی۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن زبیر جو حضرت
ابوبکر کے نواسے تھے متعہ سے پیدا ہوئے تھے جیسا کہ کتب تاریخ میں وارد ہے۔
سے منقول ہے کہ دو متعے رسول اللہ کے زمانہ میں جائز تھے اور میں ان دونوں کو حرام
قرار دے رہا ہوں:
اور مُتْعَۃُ النِّسَأ (عورتوں کے ساتھ متعہ)
عورت دونوں چاہیں تو پہلی مدت متعہ گزرنے کے بعد مدت بڑھا بھی سکتے ہیں۔
ہے اجنبی عورتوں کے ساتھ جن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔
عورت سے متعہ کرنا مکروہ ہے۔
اور بدنام عورت سے بھی متعہ کرنا مکروہ ہے۔
لئے حق مہر اور مدت کا مقرر کرنا ضروری ہے۔
کسی کے نکاح میں یا عدت کے اندر ہو اس سے متعہ حرام ہے۔
منی کا عزل جائز ہے۔
مدت گزرنے کے بعد عورت پر ڈیڑھ ماہ کی عدت لازمی ہے۔
حق مہر کا ادا کرنا مرد پر واجب ہو گا اور متعہ کی مدت مقررہ گزرنے کے بعد عورت
مرد سے آزاد ہو جائے گی اور ڈیڑھ ماہ کی عدت کے بعد دوسری جگہ شادی یا متعہ کر
سکے گی۔
Youtube
Anwar-ul-Najaf Publishing House
