نکاحِ دائم | nikah daim
روگردانی کرے وہ میرا نہیں ہے۔
اور برے وہ ہیں جو شادی کے بغیر ہوں۔۔۔۔ ایک اور روایت میں آپؐ نے فرمایا بغیر شادی
کے رہنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔
لوگ ہیں (بحار الانوار)
کرے اور حق مہر کی فریقین سے رضا مندی معلوم کرے اور لڑکی سے نکاح کی وکالت لے۔۔ پس
خطبہ نکاح پڑھے:
اِخْلاصًا لِّوَحْدَانِیَّتِہٖ وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ بَرِیَّتِہٖ وَ عَلٰی الْاَصْفِیَآئِ مِنْ عِتْرَتِہٖ اَمَّا
بَعْدُ فَقَدْ کانَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلٰی الْاَنَامِ اَنْ أَغْنَاھُمْ بِالْحَلالِ
عَنِ الْحَرَامِ فَقَالَ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی وَانْکِحُوْا لْاَیَامٰی مِنْکُمْ
وَ الصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ
یُغْنِھِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ
صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمْ اَلنِّکاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ رَغِبَ
عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔
تو پہلے لڑکی کا وکیل لڑکے کے وکیل کو مخاطب کر کے کہے:
|
لڑکی کا وکیل کہے:
|
لڑکے کا وکیل کہے:
|
|
اَنْکَحْتُ مُوَکِّلَتِیْ مُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ النِّکاحَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
|
|
اَنْکَحْتُ مُوَکِّلَتِیْ بِمُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ النِّکاحَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
|
|
اَنْکَحْتُ مُوَکِّلَتِیْ لِمُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ النِّکاحَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
|
|
اَنْکَحْتُ مُوَکِّلَتِیْ(لڑکی کا نام) وِکَالَۃً عَنْھَا وَ عَنْ أَبِیْھَا بِمُوَکِّلِکَ
(لڑکے کا نام) عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ النِّکاحَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
|
|
زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ مُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
|
زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ بِمُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
|
زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ لِمُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
|
زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ (لڑکی کا نام) وِکَالَۃً عَنْھَا وَ عَنْ أَبِیْھَا بِمُوَکِّلِکَ
(لڑکے کا نام) عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ
الْمَعْلُوْم |
|
اَنْکَحْتُ وَ زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ مُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
|
قَبِلْتُ النِّکاحَ
وَ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم |
|
اَ نْکَحْتُ وَ زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ بِمُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
|
قَبِلْتُ النِّکاحَ
وَ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم |
|
اَ نْکَحْتُ وَ زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ لِمُوَکِّلِکَ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
|
قَبِلْتُ النِّکاحَ
وَ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم |
|
اَنْکَحْتُ وَ زَوَّجْتُ
مُوَکِّلَتِیْ (لڑکی کا نام) وِکَالَۃً عَنْھَا وَ عَنْ أَبِیْھَا بِمُوَکِّلِکَ (لڑکے کا نام) عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم |
قَبِلْتُ النِّکاحَ
وَ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم |
کے صیغے وہی رہیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں کیونکہ اس صورت میں لڑکی کی طرف سے ایجاب
کے صیغے پڑھنے والا لڑکی کا وکیل نہ ہو گا بلکہ لڑکی کے باپ سے قبولیت لے کر پڑھے گا۔۔
چنانچہ لڑکی کے باپ کی طرف سے وکیل بنے گا اور صیغہ میں لفظ مُوَکِّلَتِیْ کی بجائے بِنْتَ مُوَکِّلِیْ کہے گا ۔
سے ایجاب کا صیغہ اس طرح پڑھے: اَنْکَحْتُ
مُوَکِّلَتِیْ مُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
قَبِلْتُ النِّکاحَ لِمُوَکِّلِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
میں قبول کے صیغے وہی ہیں جو گزر چکے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہ ہو گی۔
قبول کے دونوں صیغوں میں تبدیلی لازمی ہے۔۔ مثلاً عورت کی طرف سے وکیل اس طرح کہے گا: اَنْکَحْتُکَ مُوَکِّلَتِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
قَبِلْتُ النِّکاحَ لِنَفْسِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
زَوَّجْتُکَ مُوَکِّلَتِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
التَّزْوِیْجَ لِنَفْسِیْ عَلٰی الْمَہْرِ الْمَعْلُوْم
تعالیٰ سے خیر و خوبی کی دعا کریں۔
حاضرین نکاح کے لئے اس کا کھانا مستحب ہے۔
